ٹرمپ ایران کے خلاف محدود فضائی کارروائیوں پر غور کررہے ہیں، امریکی میڈیا

1

رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ اقدامات اس وقت زیر غور آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ذرائع کے مطابق ان اقدامات کو مذاکرات میں تعطل ختم کرنے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

اخبار کے مطابق صورتحال سے آگاہ افراد کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی بمباری کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، تاہم اس آپشن کو کم ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ طویل المدتی جنگوں سے گریز کی پالیسی رکھتے ہیں۔

مزید برآں ایک اور ممکنہ آپشن کے طور پر محدود مدت کی ناکہ بندی پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکا اپنے اتحادی ممالک پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے طویل المدتی فوجی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں