امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کئی برسوں سے مجھے نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ میں کافی عرصے سے ان کی ہٹ لسٹ میں ہوں یہی وہ صورتحال ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ اگر ایران نے انھیں قتل کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو وہ پہلے ہی اعلیٰ حکام اور فوج کو سخت ترین ردعمل دینے کی ہدایات دے چکے ہیں۔ ایران پر ایسی بمباری کی جائے جو اس نے اپنی تاریخ میں کبھی نہ دیکھی ہو۔
ایران کی جانب سے قتل کیے جانے کی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انٹرویو لینے والے سے طنزیہ انداز میں کہا کہ مجھے امید ہے کہ اگر میں نہ رہا تو آپ مجھے یاد کریں گے۔
اب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹرمپ کے اس بیان کی وضاحت جاری نہیں کی گئی جبکہ ایرانی حکام کی طرف سے بھی اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ 2020 میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو امریکا نے ڈرون حملے میں قتل کیا تھا جس کے بعد ایرانی حکام بارہا قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی دیتے رہے ہیں۔