عباس عراقچی نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی فریق کی جانب سے دھمکی آمیز رویہ برقرار رہا تو حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دستخط اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں اور معاہدے میں شامل شرائط پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نہ ایرانی عوام اور نہ ہی ایران کی بہادر مسلح افواج کسی بھی قسم کی دھمکی، دباؤ یا خوف سے مرعوب ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
عباس عراقچی نے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ لاکھوں ایرانی شہری اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ جمع ہوئے تاکہ وہ اپنے رہنما اور ان کے ورثے کو خراج عقیدت پیش کر سکیں۔