ایران میں نئے رہبراعلیٰ کے فوری انتخاب کیلیے مطالبات زور پکڑنے لگے؛ عالم دین میدان میں آگئے

1

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں اب نئے رہبر معظم کے انتخاب کے لیے مطالبات زور پکڑنے لگے ہیں۔ عوام کے بعد اب خواص بھی حکومت دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق معروف شیعہ مرجع تقلید اور گرینڈ آیت اللہ ناصر مکرم شیرازی نے کہا ہے کہ ملک کے معاملات کو بہتر انداز میں منظم کرنے کے لیے نئے سپریم لیڈر کا جلد تقرر ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قیادت کا خلا زیادہ دیر تک برقرار رہنا ملکی نظم و نسق کے لیے مناسب نہیں اور ملک کے تازہ ترین حالات بھی اس میں کوتاہی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے نئے سپریم لیڈر کی فوری انتخاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور بااثر گرینڈ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے بھی ایران کی مجلسِ خبرگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے عمل کو تیز کرے تاکہ ملک میں غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ہوسکے۔

ان دونوں سینئر مذہبی شخصیات نے فتوے بھی جاری کیے تھے جن میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مسلمانوں پر یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ ان مجرموں کے شر کو دنیا سے ختم ہونے تک اس معاملے کو زندہ رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں