مسٹر پتلو نے واقعے میں اپنی ذمے داری سے انکار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحقیقات کرانے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت وہ اسپتال میں زیرِ علاج تھے اور کمر کی شدید تکلیف کے باعث چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔ بیان میں انہوں نے اپنی ذہنی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے خودکشی کے خیالات کا اظہار بھی کیا۔
مسٹر پتلو نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق وہ بھی اس سانحے پر اتنے ہی افسردہ ہیں جتنا متاثرہ خاندان۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور انہیں اس حادثے کا ذمے دار قرار دینے سے پہلے تمام شواہد دیکھے جائیں۔
انصر محمود نے بتایا کہ ان کی شادی کی تقریبات پانچ، چھ اور سات تاریخ کو طے تھیں، جن میں مہندی، بارات اور ولیمے کی تقریبات شامل تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک تقریب عوام کے لیے رکھی تھی، جس کا مقصد ضرورت مند افراد کی مدد، مستحق لڑکیوں کی شادیوں کا انتظام، راشن اور تحائف تقسیم کرنا تھا۔ ان کے مطابق وہ اپنی شادی کہیں بھی منعقد کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے پاکستان میں عوام کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا فیصلہ کیا۔