پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اتنے سنجیدہ حالات میں جب بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو بات چیت ضرور ہونی چاہیے اور حکومت کو کہوں گا لانگ مارچ میں آنے والے سیاسی لوگوں پر نیٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں ہے
انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں پر نیٹ لانچر استعمال نہیں کیے جاتے، ان کی بات سنی جاتی ہے اور شکایات حل کی جاتی ہیں، سیاسی لوگوں کو انصاف دیا جاتا ہے، ان کی بات غور سے سنی جاتی ہے اور انا کو ایک طرف رکھا جاتا ہے، یہ سارا معاملہ جنگ انا بنا ہوا ہے، حکومت کو اپنی انا جھکانا ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نیٹ لانچر کا استعمال ختم کرکے کوئی ایسا راستہ نکالنا ہوگا، ہم نہیں چاہتے عوام اور قانون کے رکھوالے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں، ہم کہہ رہے ہیں ہماری بات سنی جائے، ہم پرامن ہیں اور اپنے حقوق کے لیے نکل رہے ہیں، ہم انصاف کی آواز اٹھا رہے ہیں اور بارہا کہا ہمیں سنا نہیں گیا اور انصاف نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزرا جو مرضی بیانات دیں، کسی وزیر نے یہ نہیں کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کی بات سنی اور انصاف دیا، پارٹی نے اپنا پروگرام بہت پہلے اعلان کیا ہوا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، جہاں تک اعتماد کا تعلق ہے تو سہیل آفریدی ہمارے وزیراعلیٰ ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو سہیل آفریدی پر اعتماد ہے، ان شا اللہ وہی وزیراعلیٰ رہیں گے، سہیل آفریدی کو ہم سب کی حمایت حاصل ہے، یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ہیں۔