فرد واحد کی خاطر فیصلے نہیں مان سکتے، سپہ سالار سےعرض ہے اپنے منصب کے حوالے سے رہنمائی لیں، فضل الرحمان

1

سربراہ جے یو آئی ( ف ) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرد واحد کی خاطر فیصلے نہیں مان سکتے، میں ادب و احترام سے اپنے سپہ سالار سے عرض کرنا چاہوں گا کہ اس منصب کے حوالے سے کچھ رہنمائی لیں، ہمیں رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔

پشاور میں جے یو آئی کے کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے جوائنٹ اپوزیشن کی بات کی، آدھے گھنٹے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے قانون پاس ہوگیا، ہماری میٹنگیں اپوزیشن کے ساتھ موجودہ صورتحال پر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دیانت دل میں نہ رکھنے والے مخلص نہیں ہوجاتے، معاشرے کو عدل فراہم کرنے کی ضرورت ہے، ظلم کے ساتھ حکمرانی برقرار نہیں رہ سکتی، پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون پاس نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں 40 فیصد ممبران کہہ دیں کہ مسئلہ اسلامی نظریاتی کونسل جائے تو ہر صورت جائے گا، 26 ویں ترمیم کا مسئلہ اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس کثرت رائے سے گیا لیکن پھر بھی عمل درآمد نہیں ہوا، فوج کو بھی سیاست میں مداخلت کا حق نہیں، ہم پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کے قائل ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم سیاست میں ان کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں، پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حالیہ قانون سازی کو باریک بینی سے نہیں دیکھا، حالیہ قانون سازی آئین سے متصادم ہے، حالیہ قانون تمام قوانین سے بالاتر ہوگا، اسٹیبلشمنٹ کو طاقتور کرنے کے لیے قانون سازی ہوگئی۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ آپ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز اورفیلڈ مارشل بھی ہوں اُس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں لیکن جو اختیارات پارلیمنٹ کے ہونے چاہئیں وہ ایک شخص کو دے دیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر اس میں مزید قانون سازی کی ضرورت ہو گی تو فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی یعنی اس میں سے پارلیمنٹ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہارڈ اسٹیٹ سے گھٹن پیدا ہوگی، لوگ متنفر ہوجائیں گے، میں بڑے ادب و احترام کے ساتھ اپنے سپہ سالار سے عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ اگر سپہ سالار ہیں تو اس منصب کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے کچھ رہنمائی لے لیں، ہمیں رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں