معاہدہ مکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، کسی بھی ملک کے خلاف نہیں، اسحاق ڈار کی وضاحت

1

سماجی رابطے کی سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنی پوسٹ میں نائب وزیراعظم نے وضاحت کی کہ معاہدہ علاقے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اختلافات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہاں ہیں، معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستونوں کے مطابق ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی قیادت اور عوام کے برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کئی سال کی بات چیت اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد امن اور سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنا اور علاقائی استحکام و خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے سے کسی بھی موجودہ دو طرفہ یا کثیرالجہتی معاہدوں کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ معاہدے کی رو سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق کے مطابق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں