اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا کی ’دھوکا دہی والی فطرت‘ کے باعث ایران ان مذاکرات میں محتاط انداز اپنائے گا، لیکن اس کے باوجود سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
انہوں نے پاکستان کی ان کوششوں کو بھی سراہا جن کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان عبوری جنگ بندی ممکن ہوئی۔
ایرانی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران ان مذاکرات میں مکمل اختیار اور واضح حکمت عملی کے ساتھ شریک ہوگا، اور اس کا مقصد اپنی حالیہ فوجی کامیابیوں کو سفارتی سطح پر مزید مضبوط بنانا ہے۔