ایرانی نیول چیف کی ہلاکت امریکا اسرائیل تعاون کی تازہ مثال ہے؛ نیتن یاہو

1

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بتایا کہ علی رضا   تنگسیری آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو روکنے جیسے اقدامات میں براہِ راست ملوث تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہ کارروائی رات گئے کی گئی جس میں علی رضا تنگسیری کے ساتھ ایرانی بحریہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی مارے گئے تاہم انھوں نے دیگر افسران کے نام اور تعداد نہیں بتائی۔

تاحال ایران نے پاسداران انقلاب کے سربراہ علی رضا تنگسیری کی شہادت کے اسرائیلی  دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ علی رضا تنگسیری آبنائے ہرمز کی بندش میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور ان کے ہاتھ بہت سے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کی ہلاکت، اسرائیل اور امریکا کے درمیان قریبی تعاون کی تازہ مثال ہے۔ یہ کارروائی امریکہ کے ساتھ مشترکہ جنگی اہداف کے حصول کے لیے کی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر کی جنگ بندی کی بیک ٹو ڈور کوششوں کے باوجود دھمکی دی کہ اسرائیلی فوج ایران کے مختلف اہداف کو پوری قوت سے نشانہ بناتی رہے گی۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور امریکا کی 28 فروری سے جاری ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیوں میں آیت اللہ خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے سربراہ، آرمی چیف، وزیردفاع اور مشیر سیکیورٹی سمیت متعدد اعلیٰ حکام شہید ہوچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں