عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایسی ہی کچھ ای میلز کے باعث بنین الااقوامی بندرگاہوں کی آپریٹر کمپنی ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو سلطان احمد کے استعفے کا باعث بنی ہے۔
کمپنی ڈی پی ورلڈ نے بتایا کہ سلطان احمد بن سلیم کا استعفیٰ فوری طور منظور کرلیا گیا اور ان کی جگہ عیسیٰ کاظم کو چیئرمین اور یوراج نارائن کو نیا سی ای او نامزد کیا گیا ہے۔
ای میلز میں کیا سامنے آیا تھا؟
حال ہی میں جاری دستاویزات سے ظاہر ہوا کہ سلطان احمد بن سلیم اور جیفری ایپسٹین کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے میں سیکڑوں ای میلز کا تبادلہ ہوا۔
سلطان احمد بن سلیم اور جیفری اپیسٹین کے درمیان 2007 سے عوابط کا آغاز ہوا جس میں سفری منصوبوں، کاروباری آئیڈیاز حتیٰ کہ دبئی میں اسلامی ڈیجیٹل کرنسی جیسے منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
بعض پیغامات میں تو صحت سے متعلق مشوروں اور سماجی روابط کا ذکر بھی موجود ہے اور 2013 کی ایک ای میل میں ایپسٹین نے سلطان احمد بن سلیم کو قابلِ اعتماد دوستوں میں شمار کیا تھا۔
لڑکیوں سے متعلق نامناسب گفتگو
دستاویزات میں ایسے پیغامات بھی شامل ہیں جن میں لڑکیوں کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی تھی۔
2017 کی ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلطان احمد نے ایپسٹین کی ایک مبینہ پرائیویٹ مساج کرنے والی خاتون کے لیے ترکی کے ایک ہوٹل میں مکمل تربیتی پروگرام کا انتظام کیا تھا۔
ہوٹل کے رابطہ کار نے اس تربیتی پروگرام کی تصدیق بھی کی ہے۔ ای میل ٹریل کے مطابق مذکورہ خاتون کے پاس روسی پاسپورٹ تھا۔
سیاسی و کاروباری روابط
دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایپسٹین نے برطانوی سیاست دان (لارڈ مینڈیلسن) سے ڈی پی ورلڈ کی معاونت کے لیے رابطہ کیا تھا۔
ان خط و کتابت سے ایپسٹین کے ایک غیر رسمی ثالث کے طور پر کردار کا اشارہ ملتا ہے تاہم اس سے کسی غلط کام کا ثبوت اخذ نہیں کیا گیا۔
ای میلز میں متعدد عالمی شخصیات سے تعارف کا ذکر ہے، جن میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اور سابق امریکی مشیر بھی شامل ہیں۔
سرمایہ کاروں اور اداروں کا ردِعمل
اپیسٹین فائلز سے ان ای میلز کے ملنے کے بعد سے کمپنی ڈی پی ورلڈ کو کاروباری دباؤ کا سامنا رہا ہے۔
برطانیہ کی ڈیولپمنٹ فنانس ایجنسی اور کینیڈا کے ایک بڑے پینشن فنڈ نے نئی سرمایہ کاری روکنے کا اعلان کیا۔
جس کے باعث کمپنی دباؤ کا شکار ہوئی اور سلطان احمد بن سلیم کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا۔
واضح رہے کہ جیفری اپیسٹین 2008 میں کم عمر لڑکی کو جسم فروشی کے لیے اکسانے کے جرم میں سزا یافتہ تھے اور 2019 میں جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔