اسرائیل کے حامی منہ تکتے رہ گئے؛ برطانوی عدالت میں فلسطینیوں کی بڑی کامیابی

1

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطین ایکشن نامی سرگرم تنظیم پر برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں جس پر گروپ نے عدالت سے رجوع کیا۔

جس پر تین رکنی بینچ نے طویل سماعت کے بعد آج فیصلہ سناتے ہوئے میں کہا کہ فلسطین ایکشن پر حکومتی پابندی غیر قانونی تھی۔

فیصلہ سناتے ہوئے جج وکٹوریہ شارپ نے کہا کہ تنظیم کی سرگرمیوں میں دہشت گردی کا تاثر نہ ہونے کے برابر تھا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومتی پابندی سے آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

عدالت نے عندیہ دیا کہ وہ وزیرِ داخلہ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا حکم جاری کرے گی۔

تاہم برطانوی عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے اس لیے قانونی عمل مکمل ہونے تک تنظیم پر فی الحال پابندی برقرار رہے گی۔

برطانوی وزیرِ داخلہ نے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ فلسطین ایکشن پر پابندی ایک جامع اور شواہد پر مبنی عمل کے بعد لگائی گئی تھی جس کی پارلیمان نے توثیق بھی کی تھی۔

عدالتی فیصلے پر فلسطینی پرچم لہرائے اور کفایہ اسکارف پہنے کارکنان نے خوشی کا اظہار کیا، نعرے بازی کی اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔

یاد رہے کہ جولائی میں برطانوی حکومت نے فلسطین ایکشن نامی تنظیم کو اُن گروہوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جن میں حماس اور حزب اللہ بھی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں