0

مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان حوالہ ہنڈی میں ملوث، سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج

مصطفیٰ قتل کیس: مرکزی ملزم ارمغان حوالہ ہنڈی میں بھی ملوث نکلا
نیامحاذ: مصطفیٰ قتل کیس کا مرکزی ملزم ارمغان نہ صرف قتل کیس میں ملوث پایا گیا بلکہ حوالہ ہنڈی، ڈیجیٹل کرنسی فراڈ سمیت مالیاتی جرائم میں بھی سرگرم رہا۔ ایف آئی اے کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل میں سرکاری مدعیت میں اس کے خلاف نیا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

اہم انکشافات:
🔹 ملزم ارمغان ہر ماہ 3 سے 4 لاکھ ڈالر جعلسازی سے کماتا تھا۔
🔹 رقم ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکے غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کی جاتی تھی۔
🔹 جعلی بینک اکاؤنٹس ملازمین کے نام پر کھلوائے گئے۔
🔹 امریکی شہریوں سے جعلسازی کرکے رقم بٹوری جاتی تھی۔
🔹 2018 میں غیر قانونی کال سینٹر قائم کیا گیا، جو فراڈ کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
🔹 5 گاڑیاں فروخت کر چکا، جبکہ 3 کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں اب بھی اس کے پاس ہیں۔
🔹 امریکا میں حوالہ ہنڈی کے لیے کمپنی بھی والد کے ساتھ مل کر بنائی۔

ایف آئی اے کا موقف:
✅ ارمغان کے مالی جرائم کی تحقیقات مزید جاری ہیں۔
✅ غیر قانونی کال سینٹر سے روزانہ 5 افراد سے جعلسازی کی جاتی تھی۔
✅ حوالہ ہنڈی اور ڈیجیٹل کرنسی کے غیر قانونی لین دین کے شواہد مل گئے۔

آپ کی رائے؟

❓ حوالہ ہنڈی اور مالیاتی جرائم کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے؟ تبصرہ کریں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں