نیامحاذ: ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا فیصلہ: امریکی محکمہ تعلیم ختم، ریاستوں کو خودمختاری مل گئی
نیامحاذ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑا اور متنازعہ فیصلہ کرتے ہوئے امریکی محکمۂ تعلیم کو ختم کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا۔ اس فیصلے کے تحت تعلیمی نظام کی تمام تر ذمہ داری ریاستی حکومتوں کو منتقل کر دی گئی ہے۔
تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان
وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:
“امریکہ میں تعلیمی نظام زوال پذیر ہے، طلبہ کو بنیادی ریاضی تک نہیں آتی۔ محکمۂ تعلیم کے پاس بڑی بڑی عمارتیں تو ہیں، لیکن معیاری تعلیم ندارد۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ محکمہ ختم کر رہے ہیں تاکہ ریاستیں خود تعلیمی نظام کو بہتر بنا سکیں۔”
ریاستوں کو زیادہ اختیار ملے گا
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ریاستی گورنرز کو مکمل تعلیمی اختیارات حاصل ہو جائیں گے اور وہ اپنے اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں آزاد ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد، امریکہ کی 50 ریاستیں اپنے تعلیمی نصاب اور پالیسیوں کا خود تعین کریں گی۔
ڈیموکریٹس کی شدید تنقید
ٹرمپ کے اس فیصلے پر ڈیموکریٹس کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے اس اقدام کو “تعلیم پر خطرناک حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا:
“محکمۂ تعلیم بند کرنے کا فیصلہ لاکھوں اساتذہ، طلبہ اور والدین کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ یہ ایک ظالمانہ فیصلہ ہے جس سے تعلیمی معیار مزید گر جائے گا۔”
کیا محکمۂ تعلیم واقعی بند ہو جائے گا؟
قانونی ماہرین کے مطابق، محکمۂ تعلیم کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی، تاہم، اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت صدر ٹرمپ کو محکمے کے بجٹ اور دیگر وسائل کو محدود کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
عوامی ردِعمل
ٹرمپ کے فیصلے پر عوامی ردِعمل ملا جلا ہے۔ کچھ حلقے اسے تعلیم کی بہتری کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے تعلیمی شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
کیا امریکہ میں تعلیم کا نیا دور شروع ہو رہا ہے؟
ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکی تعلیمی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ فیصلہ تعلیم کے معیار کو بہتر بناتا ہے یا مزید مسائل کھڑے کرتا ہے۔