بھارت میں کسانوں کی تحریک شدت اختیار کر گئی، مودی سرکار کے جبر کے خلاف مزاحمت جاری
نیامحاذ: بھارت میں کسانوں کے حقوق کی جدوجہد دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، مگر مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں نے کسانوں کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ہریانہ اور پنجاب کے کسان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں، جبکہ بھارتی حکومت احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کے بے دریغ استعمال پر اتر آئی ہے۔
پنجاب پولیس کا کریک ڈاؤن، کسان رہنما گرفتار
حالیہ واقعات میں پنجاب پولیس نے چندی گڑھ میں میٹنگ سے واپس آتے کسان رہنماؤں کو موہالی کے مقام پر حراست میں لے لیا۔ جگجیت سنگھ دلیوال، سروان سنگھ سمیت دیگر کسان رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متعدد کسانوں کو شمبو-کھنوری بارڈر سے زبردستی بے دخل کر دیا گیا۔
کیمپ مسمار، ایمبولینس پر قبضہ
حکومت کے جبر کی انتہا یہ ہے کہ کھنوری بارڈر پر دھرنا ختم کرانے کے لیے 200 کسانوں کو ہٹانے کے لیے 3,000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ کسانوں کے کیمپوں کو مسمار کر دیا گیا، ایمبولینس پر قبضہ کر کے جگجیت سنگھ دلیوال کو گرفتار کیا گیا، اور پولیس نے بسوں میں چڑھاتے وقت کسانوں کی پگڑیاں اچھال کر ان کی بے حرمتی کی۔
“دہلی چلو” مارچ: ناانصافی کے خلاف ایک تاریخی مزاحمت
بھارتیہ کسان یونین کے رہنما کلونت سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے کسانوں کا سامان، ٹریکٹر اور دیگر ضروری اشیاء ضبط کر لیں، بزرگ کسانوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ دیا گیا۔
“دہلی چلو” مارچ اب صرف کسانوں کی تحریک نہیں، بلکہ مودی حکومت کے جبر، ناانصافی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک علامت بن چکا ہے۔
عالمی برادری کی خاموشی سوالیہ نشان؟
کسانوں پر ہونے والے اس کریک ڈاؤن کے باوجود عالمی برادری چپ سادھے بیٹھی ہے۔ مودی سرکار کی پالیسیاں کسانوں کو انصاف سے محروم کرنے اور ان کی آواز دبانے کا کھلا ثبوت ہیں۔