نیامحاذ: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چین کی تاریخی کامیابی، خودمختار AI ماڈل متعارف
چین نے امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا، دنیا کا پہلا خودمختار AI ماڈل تیار
بیجنگ: چین نے مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا، چینی ٹیک کمپنی بٹر فلائی نے انسانی دماغ جیسی صلاحیتوں کا حامل دنیا کا پہلا “خودمختار AI ماڈل” مانس (Manus) ایجنٹ متعارف کرا دیا، جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے خود فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مانس AI: مصنوعی ذہانت کا نیا انقلاب
سائنسی اصطلاح میں یہ عمل “آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس” (AGI) کہلاتا ہے، جو AI کے میدان میں ایک انقلابی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ مانس ایجنٹ پہلے ہی مختلف گیمز اور ویب سائٹس بنانے میں استعمال ہو چکا ہے اور جلد ہی عوامی سطح پر بھی دستیاب ہوگا۔
کن کن شعبوں میں مانس AI استعمال ہوگا؟
یہ جدید AI ماڈل کئی شعبوں میں خدمات انجام دے سکتا ہے، جن میں:
✅ ہوائی جہاز کی ٹکٹ بکنگ
✅ جائیداد کی خرید و فروخت
✅ خودکار پوڈکاسٹ تخلیق
✅ ڈیجیٹل مواد کی تیاری
AI کی خودمختاری کی جانب ایک اور بڑا قدم
ماہرین کا کہنا ہے کہ مانس ایجنٹ مصنوعی ذہانت کو “خودمختار اور آزاد” بنانے کی سمت میں ایک زبردست پیش رفت ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت AI انسانی رہنمائی کے بغیر بھی پیچیدہ کام انجام دے سکے گا، جو مستقبل میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔