نیامحاذ: پی ٹی آئی کا قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ! عمران خان کے بغیر میٹنگ کی کوئی حیثیت نہیں
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا، مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بغیر ہونے والی میٹنگ کی کوئی اہمیت نہیں۔
پی ٹی آئی کا اجلاس میں شرکت سے انکار، بائیکاٹ کی وجوہات کیا؟
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ اجلاس میں شرکت نہیں کی جائے گی۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور حکومتی عہدے کے باعث شریک ہوں گے۔
“آپریشن نہیں، مذاکرات ہونے چاہئیں!” – پی ٹی آئی
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی فوجی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں۔ 77 سال سے ملک بحرانوں کا شکار ہے، ہمیں سیاسی حل نکالنا ہوگا، نا کہ مزید تنازعات کو ہوا دینا۔
عمران خان کی رہائی کا مطالبہ، حکومت پر تنقید
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اجلاس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
🔹 اچانک قومی سلامتی اجلاس بلا لیا گیا مگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
🔹 عمران خان کو پابندِ سلاسل رکھ کر ملک کے فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔
🔹 “ہم بائیکاٹ کر رہے ہیں، کیونکہ یہ اجلاس ایک پولیٹیکل ڈرامہ ہے!”
“غیر آئینی حکومت کے اجلاس میں نہیں جائیں گے” – محمود خان اچکزئی
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی اجلاس کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا:
✔️ “دھاندلی زدہ حکومت کے کسی اجلاس میں نہیں بیٹھیں گے۔”
✔️ “ملک نازک حالات میں ہے، پارلیمنٹ کو دو دن کے لیے کھولا جائے۔”
✔️ “ان کیمرا میٹنگز میں حقائق چھپانے کی کوشش ہو رہی ہے۔”
“موجودہ حکومت قابلِ اعتبار نہیں!” – علامہ راجہ ناصر عباس
تحریک تحفظ آئین کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ:
📌 عمران خان کے بغیر ہونے والے فیصلے عوام قبول نہیں کریں گے۔
📌 عدلیہ میں ریفارمز کے نام پر اسے کمزور کیا جا رہا ہے۔
📌 ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوامی قیادت کو ساتھ لے کر کیا جانا چاہیے۔
“عمران خان سے غداری نہیں کریں گے!” – صاحبزادہ حامد رضا
سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے بھی سخت موقف اپنایا اور کہا:
“ہم کسی بھی صورت عمران خان سے غداری کر کے اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتے!”
“موجودہ حکومت کو ایسی حساس بریفنگ دینا ہی غلط فیصلہ ہے۔”
“یہ ملک کی خود مختاری کا سوال ہے، عوام یہ تماشا مزید برداشت نہیں کریں گے!”
پی ٹی آئی کے بغیر قومی سلامتی اجلاس بے معنی؟
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارلیمانی سطح پر کوئی بھی فیصلہ عمران خان کو اعتماد میں لیے بغیر ممکن نہیں۔ اگر حقیقی معنوں میں قومی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے ہیں تو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، ورنہ ایسے اجلاس صرف رسمی کاروائی رہ جائیں گے۔