0

مولانا فضل الرحمان کا بڑا اعلان! عید کے بعد حکومت کے لیے نئی مشکلات؟

مولانا فضل الرحمان کا حکومت مخالف تحریک کا اعلان، عید کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا
نیامحاذ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے مجلس عمومی کا اجلاس بلایا گیا ہے، اور عید کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت اور پارلیمنٹ کو “کٹھ پتلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم، صدر اور وزیر داخلہ نااہل ہیں۔

حکومت مخالف تحریک اور پی ٹی آئی سے ممکنہ اتحاد
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا:

“ملکی صورتحال پر تحریک کے لیے مشاورتی کونسل کا اجلاس بلایا ہے۔”
“حکومت مخالف تحریک میں پی ٹی آئی سے اتحاد پر فیصلہ پالیسی ساز اجلاس میں ہوگا۔”
“حکومت میں شمولیت کے لیے حکمران منتیں کرتے رہے، لیکن ہم نے اصولی مؤقف اپنایا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی اصل قیادت جیل میں ہے، جبکہ باہر یکسوئی نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی سے معاملات میں تلخی کم ہوئی ہے۔

نواز شریف کا اہم کردار
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں نواز شریف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایک صوبے میں حکومت سے کام چل جائے گا، تو یہ غلط ہوگا۔

صدر آصف زرداری پر تنقید
انہوں نے صدر مملکت آصف زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ:

“آصف زرداری انجوائے کر رہے ہیں، وہ واحد شخص ہیں جو صوبائی اسمبلی اور ایوان صدر خریدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔”
“پنجاب کو ٹھنڈا چھوڑ دینا سیاسی حکمت عملی نہیں ہے، ہمیں دو صوبوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔”
ریاست کی خودمختاری اور خارجہ پالیسی پر سوالات
مولانا فضل الرحمان نے کابل ایئرپورٹ دھماکے کے ملزم کی گرفتاری میں پاکستان کی معاونت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

“پاکستان نے بکرا پیش کیا، ٹرمپ خوش ہوا، اور حکومت نے عید منائی۔”
“اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات کی جا سکتی تھی، مگر حکومت خاموش رہی۔”
“اگر اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے کسی کو قربانی کا بکرا بنایا گیا تو یہ غلط ہوگا۔”
فوج اور اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو سیاستدان نہیں، بلکہ اسٹیبلشمنٹ چلا رہی ہے، اور یہ رویہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔

“کہتے ہیں سیاستدان ملک نہیں چلا سکتے، خدا کے لیے آپ گھر بیٹھ جائیں، سیاستدان آپ سے بہتر ملک چلا سکتے ہیں۔”
“پاکستان فوج کی ملکیت نہیں، یہ ہم سب کا ہے۔”
الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ
انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کے استعفے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا:

“مدت مکمل ہونے کے باوجود چیف الیکشن کمشنر اور ممبران نوکری کر رہے ہیں، انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔”
“حکومت اگر کہے تو وہ بیٹھے رہیں گے، یہ جمہوری طریقہ نہیں۔”
افغانستان، ایران اور بھارت سے تعلقات پر مؤقف
مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ:

“اگر ایران اور بھارت سے بات چیت ہو سکتی ہے، تو یہی رویہ افغانستان کے لیے کیوں نہیں؟”
“ہم پر حملے کر کے ڈرایا جا رہا ہے، لیکن ہم نہیں ڈریں گے۔”
ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر تشویش
انہوں نے کہا کہ:

“حکومت مختلف اداروں، جیسے پوسٹل سروسز اور پی ڈبلیو ڈی، سے ملازمین کو نکال رہی ہے۔”
“اگر یہ ملازمین نااہل ہیں تو حکمران کیسے اہل ہیں؟ نوجوانوں کو بے روزگار کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟”
نتیجہ
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت عوامی حمایت کھو چکی ہے، اور عید کے بعد حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے سیاسی، معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر سخت اعتراضات اٹھائے اور ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے نیامحاذ کے ساتھ رہیے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں