آئی ایم ایف اور حکومت کے مابین بجٹ مذاکرات جاری ہیں، جس میں توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور آئندہ مالی اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے سوا بجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹس بروقت نافذ رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار رکھی ہے۔
بریفنگ کے مطابق پیٹرول، بجلی اور گیس ٹیرف میں باقاعدہ ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی جاری ہے جبکہ کمزور اور کم آمدن طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی جاری رکھی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئی پی پیز کے جرمانہ ادائیگیوں سے متعلق تصفیے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے جبکہ پاکستان میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام کی پیشرفت بھی جاری ہے۔ آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ توانائی اصلاحات سے بجلی نظام کی کارکردگی بہتر اور نقصانات میں کمی کی توقع ہے۔