رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں نے اس منصوبے کی حساسیت کے پیش نظر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ امریکی فوج تیاریوں میں مصروف ہے اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حکم دیا جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
عہدیداروں نے اس اقدام کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارت کاری کے عمل کو خطرات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس مہم میں امریکی فوج صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایرانی ریاست اور سلامتی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مخصوص تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔
مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کو ایران کے جوابی حملے کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ دونوں جانب سے جوابی حملوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ایران پر حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق سوال وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی سے کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی مسئلہ پر مختلف پہلوؤں پر خیالات سنتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتےہیں کہ ہمارے ملک اور قومی سلامتی کے لیے کیا بہترین ہے۔