یہ بات وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کراچی پولیس چیف آزاد خان اور کمشنر کراچی حسن نقوی کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس میں کہی۔
انہوں ںے کہا کہ گل پلازہ سانحے کے بعد خصوصی طور پر کابینہ کا اجلاس ہوا اور سب کمیٹی تشکیل دی گئی، سی ایم نے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی، کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے، آج وزیر اعلی کے پاس کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اہم فیصلے ہوئے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ گل پلازہ میں جب آگ لگی اس وقت 2500 سے دو ہزار لوگ موجود تھے،
آگ لگنے کے بعد کافی لوگ نکل گئے تاہم 80 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد محکمہ سول ڈیفنس نے دو ہزار تئیس سے متعدد فائر آڈٹ کیے اس کے بعد کوئی اقدام نہیں کیے گئے اس عمل کا ضلعی انتظامیا نے حکومت کو نہیں بتایا جس پر ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس کو فوری طور پر معطل کردیا گیا اس میں اگر کوئی اور بھی ملوث ہوا تو اس کو بھی سزا ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، چیف انجیئر بلکس اور چیف ہائڈرنٹس کو ہٹا کر محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے، سینئر ڈائریکٹر کی ایم سی کو عہدے سے ہٹا کر محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی، وزیراعلی کی ہدایات پر تمام ریسکیو کے اداروں کو ایک چھت تلے لے آئیں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں تھا، گل پلازہ منظورہ شدہ بلڈنگ کے خلاف پائی گئی، یونین کی کوئی غفلت ثابت ہوئی تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، گل پلازہ کی لیز والے مرحلے میں سنگین بے ضابطگیاں نظر آئیں، اینٹی کرپشن کو کہا ہے اس پر قانون کے مطابق ایکشن لیں۔