اسرائیل کو 2023 میں یحییٰ سنوار کو قتل کرنے کے 11 مواقع ملے لیکن آنکھوں پر پردہ پڑگیا

2

اس بات کا انکشاف اسرائیل کے نشریاتی ادارے ’چینل 12‘ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جس نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو نے حماس کے غزہ میں سربراہ یحییٰ السنوار کو قتل کرنے کے 11 مواقع جان بوجھ کر ضائع کیے تھے۔

رپورٹ میں ایک سینئر دفاعی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا کہ یحییٰ السنوار کو قتل کرنے کے یہ 11 مواقع فروری اور مارچ 2023 کے دوران ملے تھے۔

انھوں نے چینل 12 کو مزید بتایا کہ ملکی داخلی سلامتی ادارے شِن بیٹ نے متعدد بار یحییٰ السنوار کی موجودگی کا مقام معلوم کرلیا تھا اور کارروائی کے لیے سفارش کی تھی۔

دفاعی عہدیدار کے بقول تاہم وزیرِاعظم نیتن یاہو نے نہ صرف یحییٰ السنوار پر حملے کی منظوری نہیں دی بلکہ اس پر باقاعدہ اجلاس بلانے سے بھی گریز کیا۔

اسرائیلی نیوز چینل کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جن مہینوں میں یحییٰ السنوار کی موجودگی کا سراغ لگالیا گیا تھا ان میں حماس نے اسرائیل پر تین بار راکٹ حملے کیے تھے۔

چینل 12 نے یہ بھی یاد دلایا کہ گزشتہ برس ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اُس وقت کے شِن بیٹ سربراہ رونین بار نے یکم اکتوبر 2023 کو بھی السنوار کے خلاف کارروائی کی منظوری مانگی تھی۔

یحییٰ سنوار کو نشانہ بنانے کی یہ اجازت حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے صرف 6 دن قبل مانگی گئی تھی مگر اس درخواست کو نظر انداز کر دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اجازت دیدیتے تو حماس کی قیادت تل ابیب پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرتے اور نہ ہی یہ طوریل جنگ شروع ہوتی۔ 

دوسری جانب وزیرِاعظم ہاؤس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں