ایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلیے 3 عرب ممالک میدان میں آگئے؛ ٹرمپ سے رابطے

4

عالمی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر خلیجی عرب ممالک نے پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

سعودی عرب، قطر اور عمان امریکا کے قریبی اتحادی ہونے کے باوجود ایران پر حملے کے ممکنہ نتائج پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

یہ بات سی این این سے گفتگو میں سفارتی عمل کی براہ راست معلومات رکھنے والے ایک علاقائی عہدیدار نے بتائی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کا مؤقف ہے کہ ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے سیکیورٹی اور معاشی اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے۔

وال اسٹریٹ  جرنل کے مطابق سعودی عرب، قطر  اور عمان  نے امریکا تک پیغام پہنچایا ہے کہ  فی الوقت ایران پر حملہ  نہ کرے ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائے گی۔ جس کا نقصان خود امریکی معیشت کو بھی ہوگا۔

سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض عرب حکومتوں نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ احتجاجی تحریک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

عرب حکومتوں کا مزید کہنا تھا کہ ایران پر فوجی کارروائی کا الٹا اثر ہوسکتا ہے جس سے ایران میں مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں کو اختلافات بھلا کر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع فراہم کردے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں