خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیان پربپھر گئے صوبائی اسمبلی میں کثرت رائے سے مںظور ہونے والی مذمتی قرارداد میں آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
حکومتی ارکان کا کہنا تھا مریم نواز کا بیان توہین آمیز اور جہالت کی عکاسی کرتا ہے، لیاقت علی خان، بے نظیر بھٹو پنجاب میں قتل ہوئیں عمران خان پر پنجاب میں حملہ ہوا اور دہشت گردی کا الزام خیبرپختونخوا پر لگایا جارہا ہے، بے نظیر بھٹو حکومت ختم کرنے کے لیے اسامہ بن لادن سے پیسے کس نے لیے، طالبان کے نواز لیگ کے رابطے رہے ہیں۔
لیگی ارکان نے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی صدارت میں شروع ہوا تو وزیر قانون نے معمول کا ایجنڈا معطل کرکے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے صوبوں کے حوالے بیان پر بحث کا مطالبہ کیا جس پر اسپیکر نے ایوان سے منظوری لیتے ہوئے معمول کا ایجنڈا معطل کردیا جبکہ اپوزیشن ارکان نے ایجنڈا معطل کرنے کی مخالفت کی۔
صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد نے کہا کہ مریم نواز کا بیان مریم نواز کا بیان توہین آمیز اور جہالت کی عکاسی کرتا ہے، مریم نواز کا یہ کہنا ہے بھارت سے زیادہ پنجاب کو خطرہ پڑوسی صوبوں سے ہے تو بھارت کو کلین چٹ دینے کے مترادف ہے جب بھارت نے دو بار پاکستان پر حملہ کیا تو نواز شریف نے بھارت کی مخالفت تک نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر مریم نواز اپنے بیان میں خیبرپختونخوا والوں کو دہشت گرد قرار دیتی ہیں تو ان کے شوہر کیپٹن صفدر، پارٹی کے صوبائی صدر امیر مقام ، ڈاکٹر عباد اللہ بھی تو اسی صوبےکے ہیں، کیا وہ بھی دہشت گرد ہیں، جو بیانیہ پاکستان فوج بھارت کے خلاف لیکر چل رہے تھی کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے ایک بیان نے اسٹیبلمشنٹ کے بیانیہ کا دھڑن تخہ کردیا، مسلم لیگ نواز کے طالبان سے رابطے ہیں وزیراعظم شہباز شریف کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے کہ طالبان پنجاب میں نہ آئیں، بے نظیر حکومت ختم کرنے کے لئے اسامہ بن لادن سے پیسے کس نے لیے تھے، کس نے کہا کہ تھا کہ بے نظیر بھٹو کی ختم کرنی ہے، لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو پنجاب میں شہید ہوئیں ان کی زمہ دار اس وقت کی حکومت پر ہے، ہمیں محب وطنی کا سرٹیفیکٹ کسی سے نہیں لینا۔