سعودی عرب کے لیے جو خطرہ ہے وہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے، ترجمان پاک فوج

1

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ اگر بھارت کل دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو سعودی عرب کی کیا پوزیشن ہوگی کیا سعودی عرب پاکستان کی مدد کرے گا؟

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت گہرے ہیں، کئی جہتیں ہیں، برادرانہ اور جذبانی تعلقات ہیں، اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے جاری تاریخی اور گہرے تعلقات کا مظہر ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک چیز واضح ہونی چاہیے کہ محفاظین حرمین شریفین کا اعزاز پاکستان کے پاس ہے اور یہ ہر بچے اور ہر مسلمان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، حرمین شریفین کو کوئی خطرہ ہوتا ہے تو اس کے دفاع کے لیے اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور اس کی افواج کو چنا ہے اور حرمین شریفین کی حفاظت سعودی عرب کی قومی سلامتی کے ساتھ جڑی ہے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے کوئی خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے، اسی طرح ہمیں سعودی عرب کی سیکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے اسی طرح سعودی عرب کو بھی پاکستان کی سلامتی عزیز ہے، اس کی دونوں ممالک کے لیے دو طرفہ اہمیت ہے، اس کا نتیجہ کیا ہوگا یہ معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑا واضح ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ اپنا عہد پورا کرو کیو نکہ آپ سے عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو ہم نے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کرنے والے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال پر کہا کہ جتنی شہادتیں ہم نے دیں اور جتنا جنگ کے لیے ہم تیار ہیں دنیا میں کوئی نہیں ہے، ہمیں خود پر اور قوم پر بھروسا ہے اور قوم کو بھی ہم پر بھروسا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو غلط فہمی تھی کہ پاک فوج اور عوام کے درمیان دوری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں