وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اس حملے کو کرنے والے بھی ہمارے ہمسائیوں کے اسپنسرڈ ہیں، یہ واقعہ ایک بج کر 42 منٹ پر اسلام آباد انتظامیہ کے نوٹس میں آیا اور اب تک کی اکٹھی کی گئیں معلومات کے مطابق 31 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے حکم پر میں پمز اسپتال میں موجود رہا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ جس دہشت گرد نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، وہ افغانستان کا شہری تو نہیں لیکن کتنی بار اس نے افغانستان کا سفر کیا ہے اس کی تفصیل آ گئی ہے۔
وزیرمملکت داخلہ نے دعویٰ کیا کہ یہ بی ایل اے کی دہشت گردی ہے، یہ دہشت گرد بزدلی کی آخری حدوں کو چھو گئے ہیں، یہ سافٹ ٹارگٹس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے 31 شہدا میں آئی جی اسلام آباد کے کزن بھائی بھی شہید ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کی عمل درآمد جاری ہے، اس میں کوئی نرمی کا ابہام نہیں ہے، وزیرداخلہ نے امام بارگاہ کا دورہ کیا ہے اور تمام تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔