ششی تھرور کے مطابق پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی پالیسی کو داخلی سیاست میں فائدے کے لیے استعمال کیا گیا، تاہم اس کا عملی طور پر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے لکھا کہ پاکستان سے بات چیت کو شکست سمجھنا ایک غلط سوچ ہے اور مذاکرات کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
اپنے کالم میں انہوں نے بی جے پی کی سخت اور تصادمی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس رویے نے نہ صرف خطے کو غیر محفوظ بنایا بلکہ بھارت کے سفارتی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا۔