مولی واٹس نے انسٹاگرام پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں جیمز رینسون کی موت کی خبر ملی تو وہ خاموش نہ رہ سکیں۔ ان کے بقول وہ عام طور پر اپنی نجی زندگی پر بات نہیں کرتیں، مگر اس بار انہوں نے محسوس کیا کہ دنیا کو یہ جاننا چاہیے کہ جیمز رینسون جیسے لوگ واقعی موجود تھے۔
انہوں نے لکھا ’’میں دل سے شکر گزار ہوں کہ یہ انسان اس دنیا میں تھا۔ اگر وہ نہ ہوتے تو شاید میری زندگی آج جیسی نہ ہوتی۔‘‘
مولی نے بتایا کہ وہ نیویارک کے علاقے چائنا ٹاؤن میں جیمز رینسون کے ساتھ ایک ہی عمارت میں رہتی تھیں۔ ایک رات عمارت کے دروازے پر ان پر حملہ ہوا۔ وہ مدد کےلیے چیخیں مگر کوئی نہ آیا۔ حملہ آور نے ان کا گلا دبایا تاکہ وہ آواز نہ نکال سکیں۔ مولی کے مطابق اس لمحے انہیں یقین ہو چلا تھا کہ یا تو وہ جان سے جائیں گی یا ان کی عزت پامال ہو جائے گی۔
اسی دوران جیمز رینسون، جنہیں وہ پیار سے پی جے کہتی ہیں، ان کی چیخیں سن کر مدد کے لیے دوڑ پڑے۔ مولی کے مطابق وہ بغیر قمیض کے ہاتھ میں بیٹ یا پائپ لیے آئے اور حملہ آور کو بھگا دیا۔ بعد ازاں جیمز نے اس کا پیچھا بھی کیا، جس کے باعث پولیس کو اس شخص کی شناخت میں مدد ملی، جو بعد میں ایک عادی جنسی مجرم نکلا۔
مولی نے صاف لفظوں میں کہا، ’’پی جے نے میری جان بچائی۔ مجھے نہیں معلوم اگر وہ اس رات نہ آتے تو میری زندگی آج کیسی ہوتی۔‘‘