وزارت خزانہ حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے جس میں نئے بجٹ اہداف، ٹیکس ریونیو اور مالی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
وزارت خزانہ نے بجٹ تجاویز اور سفارشات کی تیاری تیز کر دی، آئی ایم ایف کے ساتھ ایک ہفتے تک مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکومتی اخراجات اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے تجاویز زیر غور آئیں گی۔
ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے لیے ٹیکس اصلاحات پر بھی آئی ایم ایف سے مشاورت ہوگی، آئی ایم ایف وفد کے ساتھ معاشی اہداف اور ریونیو بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔
نئے مالی سال کے بجٹ اہداف، ٹیکس محاصل، مالی اصلاحات، انرجی سیکٹر ریفارمز اور نجکاری میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال ٹیکس ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے۔ ایک ہفتہ جاری رہنے والے مذاکرات میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ ملاقاتیں شیڈول ہیں۔