فہد مصطفیٰ، جو ’’جیتو پاکستان‘‘ پر اپنی کامیاب میزبانی اور متعدد ڈراموں و فلموں کے باعث شہرت رکھتے ہیں، حال ہی میں وسیم بادامی کے شو میں بطور مہمان شریک ہوئے۔ اس موقع پر وہ اپنی نئی فلم ’’آگ لگے بستی میں‘‘ کی تشہیر بھی کر رہے تھے اور ساتھ ہی اپنے کیریئر اور انڈسٹری سے متعلق مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
پروگرام کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ کیا شوبز انڈسٹری میں ہیرو یا ہیروئن بننے کے لیے گوری رنگت ضروری ہے؟ اس پر فہد مصطفیٰ نے واضح انداز میں کہا کہ وہ خود گورے نہیں ہیں، اس کے باوجود انہوں نے انڈسٹری میں کامیابی حاصل کی، اس لیے رنگت اب کوئی معنی نہیں رکھتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں صلاحیت اور محنت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے صنم سعید، صبا قمر، احمد علی اکبر اور سجل علی جیسے جیسے بڑے ناموں کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ سب کامیاب فنکار ہیں اور ان کی پہچان ان کا ٹیلنٹ ہے، نہ کہ رنگت۔
فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں دنیا بھر میں ہر طرح کے چہروں اور رنگت کے حامل افراد اداکاری کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ خود سانولی رنگت رکھتے ہیں لیکن اپنی محنت اور صلاحیت کے باعث کامیاب ہوئے۔