یہ انکشاف حال ہی میں جاری ہونے والی جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلز میں ہوا ہے۔ بعض پوسٹوں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اداکار نے فلمساز ووڈی ایلن کے ساتھ ای میلز میں خود کو آدم خور قرار دیا۔
یہ سنسنی خیز دعوے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین میں تشویش اور حیرت کی لہر دوڑ گئی، تاہم دستیاب دستاویزات اور مستند رپورٹس کا جائزہ لینے سے ایک بالکل مختلف حقیقت سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی لاکھوں دستاویزات، جو ایپسٹین کے نیٹ ورک اور روابط سے متعلق ہیں، ان میں لیونارڈو ڈی کیپریو کا نام صرف چند مواقع پر سامنے آتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ایک ای میل میں سابق برطانوی سفارتکار پیٹر مینڈلسن نے ایپسٹین سے ڈی کیپریو کے ممکنہ برانڈ اینڈورسمنٹس کے بارے میں رابطہ کیا تھا، جبکہ ایک اور ای میل میں 2016 کے دوران اداکار کے ساتھ ممکنہ ڈنر میٹنگ کا ذکر کیا گیا۔