ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کی، جس میں سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور استغاثہ نے اپنے دلائل مضبوط بنانے کے لیے مزید گواہان کے بیانات درج کروائے۔
فیصلے سے قبل ملزم عمر حیات کے وکیل نے عدالت میں درخواست کی کہ ملزم کو قیدی بیرک میں تبدیلی کی اجازت دی جائے، کیونکہ وہ موجودہ قید میں خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے، تاہم عدالت نے ابھی اس بارے میں فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔
جج نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو متعلقہ ہدایات بھی جاری کیں تاکہ قیدی کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت میں مقدمے کا تمام مالِ مقدمہ جمع کرا دیا گیا ہے، جس میں ثنا یوسف کے قتل سے متعلق تحقیقات اور استغاثہ کے شواہد شامل ہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت 10 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے، جس میں استغاثہ اپنے باقی گواہان کے بیانات قلمبند کرے گا اور عدالتی کارروائی تیز ہوگی۔
کیس کی سماعت سے قبل ثناء یوسف کیس میں ملزم عمر حیات عرف کاکا کو مبینہ دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ کمرہ عدالت سے مشتبہ لڑکا گرفتار کر لیا گیا۔
ملزم کے وکیل نے بتایا کہ مجھے اور ملزم کو کہا گیا ہے کہ تمہارے قتل کی سپاری لے لی گئی ہے۔ وکیل نے الزام لگایا کہ مشتبہ لڑکے نے ملزم عمر حیات عرف کاکا کے بہنوئی کو دھمکی کےلیے پرچی دی تھی۔