ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوگئے اور موجود افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کر دیا، پہلی منزل پر لاشوں کی تلاشی کا کام مکمل ہوگیا اور اب دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی جس پر فائر بریگیڈ کی گاڑی نے پھر سے پانی برسانا شروع کردیا۔
ریسکیو اہلکار جہاں تک جاسکتے تھے وہاں کی جانچ کرلی، سیڑھی ہٹالی گئی، ریسکیو اہلکار نیچے اتر آئے۔ گل پلازہ میں اندھیرا ہونے کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچ کے ذریعے عمارت میں موجود شہریوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
ریسکیو عملے کے افراد کو عمارت کے اندر انسانی اعضا مل رہے ہیں جبکہ لاشیں نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
13 لاشوں کی شناخت ہوچکی، 75 افراد لاپتا ہوئے ہیں، کمشنر کراچی
کمشنر کراچی حسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں 26 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں 13 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے، کچھ لاشوں کا ڈی این اے کروائیں گے جس کے بعد باقی لاشوں کی شناخت سامنے آئے گی تاحال 75 افراد لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ تھی میں نے اپنی زندگی میں ایسی آگ نہیں دیکھی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات شروع کردی ہیں ہم شواہد اکٹھے کررہے ہیں، دو چار دن میں مزید شواہد سامنے آئیں گے ابھی ہمارا فوکس ریسکیو آپریشن پر ہے انکوائری میں جو سامنے آئے گا سب کو بتائیں گے ہم کسی کو ذمے دار نہیں ٹھہرا رہے اگر کوئی کرمنل حرکت کے شواہد ملے تو سخت کارروائی ہوگی۔
بلڈنگ کو گرانے یا نہ گرانے کا فیصلہ ایس بی سی اے کی ٹیم کریگی، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید بنی کھوسہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ گل پلازہ عمارت کے مخدوش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم کرے گی، یہ ٹیم ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد کرے گی اس کے بعد عمارت کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ریسیکو آپریشن کو مکمل ہونے میں وقت لگے گا، عمارت کے گرنے والے حصے کا ملبہ اٹھانے کا کام شروع کردیا گیا ہے، 70 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کے حوالے سے ان کے اہل خانہ نے ضلعی انتظامیہ سے رجوع کیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ لاپتا افراد کو جلد ازجلد تلاش مل جائیں، نقصانات کے جائزے کا کام سندھ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ریسیکو آپریشن کے بعد شروع کیا جائے گا۔
ایک دکاندار ایکسیویٹر اور ڈرلنگ مشین لے آیا، انتظامیہ نے روک دیا
ایک دکاندار نے اپنی دکان تک پہنچنے کے لیے ایک ایکسیویٹر اور ڈرلنگ مشین استعمال کیا تاہم انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مشین کو ہٹادیا۔ دکاندار رحمت اللہ نے بتایا کہ مشین لانے کا مقصد صرف دکان تک پہنچنے کا راستہ بنانا تھا، دکان میں ان کے دو بھتیجے، کوئٹہ سے آنے والا مہمان اور ملازمین موجود تھے۔
ادھر انتظامیہ کا موقف تھا کہ مشین کے ذریعے ڈرل کرنے سے عمارت کے ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے مشین کو کام کرنے سے فوری طور پر روکا گیا اور جائے وقوعہ سے ہٹادیا گیا۔
نوجوان اندھیرے میں دیواریں ٹٹولتا ہوا باہر آنے میں کامیاب
ایک نوجوان شدید دھویں کے باوجود دیواریں ٹٹولتا ہوا عمارت سے باہر آنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر پھر بے ہوش ہوگیا اور اس کی آنکھ اسپتال میں کھلی۔
ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے نوجوان سروائیور خالد نے بتایا کہ وہ لمحات زندگی اور موت کے درمیان ایک کشمکش کی مانند تھے جہاں ہر طرف صرف دھواں اور لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ آگ لگی، دھواں پھیلا اور پھر بجلی گئی، کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
اس نے بتایا کہ دم گھٹنے کی وجہ سے لوگ نڈھال ہو رہے تھے اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
خالد نے بتایا کہ اس وقت دکان میں اس کے دو بھائی نعمت اور عبداللہ، کوئٹہ سے آنے والا کزن یوسف، تین ملازمین اور کچھ خریدار بھی موجود تھے، وہ اپنے ایک بھائی زبیر کے ساتھ باہر نکلا اور دیواریں ٹٹولتا ہوا باہر کی جانب بڑھا، اس وقت سانس لینے میں بہت مشکل ہورہی تھی مگر کسی نہ کسی طرح عمارت سے باہر آنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر پھر اسے ہوش نہیں رہا، بعد میں اس کی آنکھ اسپتال میں کھلی۔
اس نے بتایا کہ گل پلازہ میں ان کی میز نائن فلور پر 144 نمبر کی دکان تھی۔ خالد نے بتایا کہ وہ گل پلازہ کے باہر اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ موجود ہے اور اندر رہ جانے والے بھائیوں کا منتظر ہے۔