ایونٹ میں پاکستان کو پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش نے 7 وکٹ سے مات دی، روایتی حریف بھارت کیخلاف 88 رنز سے شکست مقدر بنی، 248 کا ہدف پانے والی ٹیم 159 رنز پر ہمت ہارگئی ، آسٹریلیا کے ہاتھوں 107 رنز سے ناکامی ملی، جنوبی افریقہ کیخلاف ڈی ایل میتھڈ پر 150 رنز سے ہار گرین شرٹس کو ملی۔
سری لنکا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ سے میچز بارش کی نذر ہونے پر مجموعی طور پر 3 پوائنٹس مل گئے لیکن 8 ٹیموں کے ایونٹ میں آخری پوزیشن پر ہی جگہ مل سکی، انفرادی طور پر کپتان اور آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کی کارکردگی قابل ذکر رہی، انھوں نے 7 میچزمیں 10 وکٹیں اپنے نام کیں، یہ ٹیم میں سب سے بہترین پرفارمنس رہی، انگلینڈ کیخلاف بارش سے متاثرہ میچ میں انھوں نے 27 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
مشترکہ میزبان بھارت نے پہلی بار ٹرافی اپنے قبضے میں کرلی، فائنل میں جنوبی افریقی ٹیم ناکام رہی ،اس دوران کئی ریکارڈز ٹوٹ گئے، نوی ممبئی میں منعقدہ فائنل میں بھارتی ٹیم 52 رنز سے فتحیاب رہی،سمرتی مندھانا نے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ 434 رنز بنا کر ہم وطن متھالی راج کا 2017 کا ریکارڈ توڑ دیا۔ شیفالی ورما نے فائنل میں 87 رنز بنا کر ورلڈکپ فائنل میں بھارتی اوپنر کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا، کپتان ہرمن پریت کور نے ناک آؤٹ مرحلے میں مجموعی طور پر 331 رنز بنا کر آسٹریلیا کی بیلینڈا کلارک کو پیچھے چھوڑ دیا۔